کاروار7؍فروری (ایس او نیوز) مہاراشٹرا کے رتناگیری کے پا س ساحلی علاقے میں ایک غرقاب کشتی کے کچھ حصے برآمد ہونے کی اطلاع ملی ہے جس پر شبہ کیا جارہا ہے کہ شاید یہ اسی ’سوورن تریبھوجا‘ماہی گیری کشتی کے باقیات ہوں، جوملپے بندرگاہ سے ماہی گیری کے لئے نکلنے کے بعد15 دسمبر2018سے گہرے سمندر میں سات مچھیروں سمیت پر اسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق انکولہ تعلقہ کے بیلے کیری سے تعلق رکھنے والے ایک ماہی گیر کی نظر رتناگیری میں مچھلی کا شکار کرتے وقت سمندر کی سطح پر تیرے ہوئے کشتی کے ان ٹوٹے ہوئے حصوں پر پڑی۔ اس نے اس کی بات کی اطلاع فوری طور پرکوسٹل سیکیوریٹی گارڈز کے دستے کو دی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ بیلے کیری کے اس ماہی گیر سے تفصیلی جانکاری حاصل کرنے کے بعد کوسٹل سیکیوریٹی پولیس او ر بحریہ کے افسران اس ضمن میں مزید تحقیقات کررہے ہیں۔
ایک خبر یہ بھی ہے کہ ملپے پرس سینی(purse seine) بوٹ مالکان کی تنظیم کے صدر روی نے موقع پر پہنچ کر رتناگیری کے پاس سمندر میں تیرتے ہوئی لوہے کی شیٹ جیسے حصے کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ یہ لاپتہ ماہی گیر کشتی کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ سوورنا تریبھوجا کشتی کی بناوٹ اس قسم کی نہیں تھی اور جو چیز سمندر میں اس وقت دستیاب ہوئی ہے وہ گم شدہ کشتی کی بناوٹ سے مطابقت نہیں رکھتی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی سمندر میں کچھ چیزیں ملنے کی خبریں آتی رہی ہیں جن پر شبہ کیا جارہاتھا کہ اس سے لاپتہ ہونے والی سوورنا تریبھوجا کشتی کا سراغ ملے گا، مگر تحقیقات کے بعد اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ اس کے علاوہ بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس کوچی کی ٹکر سے ماہی گیر کشتی غرقاب ہونے کی بات بھی وثوق کے ساتھ کہی گئی تھی اور سمندر کی تہہ میں کسی بڑی کشتی کے ڈوبے ہونے کے آثار کا پتہ لگنے کی خبر بھی دی گئی تھی۔پھر اس کے بعدا س تعلق سے کوئی بھی خبر سننے میں نہیں آئی۔ بار بار مختلف قسم کی خبریں عام سامنے آنے سے لاپتہ ماہی گیروں کے اہلِ خانہ مزید صدمے، تشویش اور الجھن کا شکار ہورہے ہیں۔